کس کی رضا سے اگتے ہیں لیل و نہار دیکھ - حمدِ باری تعالیٰ
کس کی رضا سے اگتے ہیں لیل و نہار دیکھ
ہیں دسترس میں کس کی خزاں و بہار دیکھ
کر حمد اس کی ، چہرے پہ آتا نکھار دیکھ
”صورت میں اپنی قدرتِ پروردِگار دیکھ”
جس نے کیا دکھوں سے تجھے آشکار دیکھ
آ رحمتوں کا اس کی ذرا کر ، شمار دیکھ
ظلمت کدوں میں بخش کے نورِ ھدیٰ تجھے
دیتا ہے تجھ کو کس طرح عز و وقار دیکھ
سب سلسلے اسی کے ، وہ ہر مسلے کا حل
ناداں تو اس پہ کرکے کبھی اعتبار دیکھ
عدس و بصل ، ثمور و عسل جس کی ہیں عطا
روزی کشا ہے سب کا وہی کِردگار دیکھ
دنیا کے بھید بھاؤ پسِ پشت ڈال کر
اس کے لئے بھی ہوکے کبھی دِلفگار دیکھ
اک بار دل سے کرلے اسے یاد بے وفا
پھر اس کی چاہتوں کا تو چڑھتا خمار دیکھ
گلہائے رنگارنگ میں قدرت اسی کی ہے
ہیں ترجماں اسی کے سبھی ، خس و خار دیکھ
جس نے کیا ہے ناز تجھے آج سرفراز
رکھے گا وہ ہمیشہ تجھے ذی وقار دیکھ
شوکت علی ناز
ہیں دسترس میں کس کی خزاں و بہار دیکھ
”صورت میں اپنی قدرتِ پروردِگار دیکھ”
آ رحمتوں کا اس کی ذرا کر ، شمار دیکھ
دیتا ہے تجھ کو کس طرح عز و وقار دیکھ
ناداں تو اس پہ کرکے کبھی اعتبار دیکھ
روزی کشا ہے سب کا وہی کِردگار دیکھ
اس کے لئے بھی ہوکے کبھی دِلفگار دیکھ
پھر اس کی چاہتوں کا تو چڑھتا خمار دیکھ
ہیں ترجماں اسی کے سبھی ، خس و خار دیکھ
رکھے گا وہ ہمیشہ تجھے ذی وقار دیکھ

Comments
Post a Comment