Posts

Showing posts from December, 2017

کرسمس ٹری… تاریخ کے آئینہ میں

Image
مہمان سامنے پڑی رنگین چھڑیاں بڑی دل چسپی سے دیکھ رہا تھا۔ اسے سمجھ نہیں آ رہا تھا، انہیں دستر خوان پرکیوں سجایا گیا ہے؟ جب کھانا کھا لیا گیا ، برتن سمیٹ لیے گئے اور تھوڑی دیر بعدیہ چھڑیاں بھی اٹھائی جانے لگیں تو اس نے پوچھ ہی لیا : ’’ان چھڑیوں کا کیا مصرف ہے؟‘‘ میزبان نے مسکراتے ہوئے جواب دیا ’’یہ چھڑیاں ہماری ثقافت اور روایات کا حصہ ہیں۔ جب بھی کوئی معزز مہمان آتا ہے تو ہم اس کے اعزاز میں کھانے کے ساتھ یہ چھڑیاں بھی رکھتے ہیں۔‘‘ ’’لیکن انہیں دسترخوان پر رکھنے کی کوئی لاجک تو ہوگی؟‘‘ مہمان نے پوچھا ۔ ’’ہاں اس کا کوئی نہ کوئی مقصد ہوگا لیکن ہمیں معلوم نہیں ہے۔‘‘ میزبان نے جواب دیا۔ مہمان تجسس میں پڑ گیا۔ تھوڑی دیر بعد ایک ضعیف العمر شخص مجلس میں آیا تو مہمان نے اس کے سامنے بھی یہی سوال رکھا۔ ضعیف شخص بھی سوال سن کر مسکرانے لگا۔ پھر بتایا کہ ’’یہ چھڑیاں ایک سادہ سے عمل کی جدید ترین صورت ہیں۔ دراصل ہمارے اکابرین کی خدمت میں جب کوئی مہمان آتا تو اس کے سامنے سرکنڈا رکھا جاتا تھا۔ تاکہ جب وہ کھانا کھا کر فارغ ہو تو اس سرکنڈے سے اپنی مرضی کا تنکا توڑ کر دانتوں کا خلال کر سکے۔ رفتہ رفت...

عشق والے بازی لے گئے

Image
عاصیوں تھام لو دامن ِ مصطفےٰ پھر پڑھو رب کی رحمت پہ لاکھوں سلام محبت رسول ﷺ کامل ایمان کی شرط ِاول ہے ۔ اپنی ہر چیز سے ماں ،باپ ،بہین، بھائی، بیوی بچے حتیٰ کہ اپنی جان و مال سے بھی بڑھ کر ’’ سردار الانبیاء حضرت محمد ﷺ سے محبت کی جائے۔ محبت کے بڑھ جانے کو ’’ عشق ‘‘ کہتے ہیں، کتنے خوش نصیب وہ لوگ ہیں جن کو غفور و کریم آقا ﷺ کا سے عشق ہوتا ہے۔ ماہ مقدس ربیع الاول کے آتے ہی عاشقانِ رسول ﷺ کے چہرے اور دل کھِل اُٹھتے ہیں ۔ پاکستان کے غیرت مند غیور عاشقان رسالت ﷺ کو اس سال 2017 میں میلاد شریف کی سعادت دوبار نصیب ہوئی ، اور اﷲ اﷲ اس ماہ مبارک ربیع الاول میں پھر دو خوشیاں نصیب ہوئی، پہلی خوشی ’’ میلاد مصطفی ﷺ نصیب ہوا۔ دوسری خوشی اﷲ پاک نے’’ عاشقان رسول ‘‘ کو مولانا خادم حسین رضوی اور ان کے رفقاء کے زریئے دی ہے۔ تحریک لبیک یا رسول اﷲ سیاسی تنظیم ہے مگر ’’ دھرنا برائے ختم نبوت خالصتاً غیر سیاسی فعل تھا۔ کوئی بھی مسلم کامل ایمان والا نہیں ہو سکتا جب تک ’’ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم میں سے کوئی شخص مومن نہیں ہو سکتا جب تک میں اس کے نزدیک اس کے باپ، اس کے بیٹے، اور دوسرے تمام...

شب قدر کو مخفی رکھنے کی حکمتیں

Image
اللہ تعالیٰ نے بہت سی چیزوں کو اپنی حکمتوں سے مخفی رکھا ہے۔اللہ تعالیٰ کس عبادت سے راضی ہوتا ہے اس کو مخفی رکھا تاکہ بندہ تمام عبادات میں کوشش کرے۔ کس گناہ سے ناراض ہوتا ہے اس کو مخفی رکھا تاکہ بندہ ہر گناہ سے بعض رہے۔ ولی کی کوئی علامات مقرر نہیں کی اور اسے لوگوں کے درمیان مخفی رکھا تاکہ لوگ ولی کے شائبہ میں ہر انسان کی تعظیم کریں۔ قبولیت توبہ کو مخفی رکھا تاکہ بندے مسلسل توبہ کرتے رہیں۔ موت اور قیامت کے وقت کو مخفی رکھا تاکہ بندے ہر ساعت میں گناہوں سے باز رہیں اور نیکی کی جدوجہد میں مصروف رہیں۔ اسی طرح لیلتہ القدر کو مخفی رکھنے کی حکمت یہ ہے کہ لوگ رمضان کی ہر رات کو لیلتہ القدر سمجھ کر اس کی تعظیم کریں اور اس کی ہر رات میں جاگ جاگ کر عبادت کریں۔ امام رازی تحریر فرماتے ہیں: اگر اللہ تعالیٰ اس رات کو معین کر کے بتا دیتا تو نیک لوگ تو اس رات میں جاگ کر عبادت کر کے ہزار ماہ کی عبادتوں کا اجر حاصل کر لیتے اور عادی گناہ گار اگر شامت نفس اور اپنی عادت سے مجبور ہو کر اس رات بھی کوئی گناہ کر لیتا تو وہ ہزار ماہ کے گناہوں کی سزا کا مستحق ہو تا اس لئے اللہ تعالیٰ نے اس رات کو مخفی رکھا تاک...

مسلمانوں ...کیا تم اب بھی نہیں اٹھو گے ؟

Image
سرزمین انبیاء بيت المقدس ، مسجد اقصیٰ مسلمانوں کا قبلہ اول اور تیسرا حرم پاک جس کی طرف رخ کرکے ہمارے پیارے نبی صلي الله عليه وسلم نے 14.5 سال نماز پڑھی اور جہاں امام الانبیاء نبی آخر الزمان صلّي الله عليه وسلم نے ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء کی امامت ف جس سر زمین پاک پر سرکار دو عالم صلي ال وسلم نے سجدہ مبارک فرمایا اور حضور سرکار کائنات صلي الله عليه وسلم اللہتعالیٰ سے شرف ملاقات کےلئے میراج پر تشریف لے گئے جو دنیا بھر کے مسلمانوں کے ایمان کا حصّہ ہے اور جو سرزمین ھزاروں سال سے مسلمانوں اور عربوں کی سرزمین ہے وہاں امریکا نے طاقت کے ذريعے بالجبر یہودیوں کی ناجائز "اسرائیلى" ریاست قائم کردی لیکن دنیا بھر کے مسلمانوں اور باضمیر انسانوں نے اس ناپاک وجود کو کسی صورت قبول نہیں کیا . امریکیوں نے اپنی طاقت کے نشے میں چور ہوکر بیت المقدس کو اسرائیلى درالحکومت کا درجہ دیتے ہوۓ امریکی سفارتخانہ منتقل کرنے کا شیطانی علان تو کردیا لیکن امریکا کو اس بات کا علم نہیں ہے کے دین اسلام در حقیقت تو پیار اور محبت والا دین ہے لیکن اگر بات آجاۓ اسکے دفع کرنے کی تو مسلمانوں سے زیادہ ٹھوس لشکر کس...

شفا دوا میں یا دعا میں

Image
ہوس زر انسانی فطرت ہے اور اس فطرت نے انسانی رشتوں کے تقدس کو ختم کر کے رکھ دیا ہے ۔ زر کے عفریت نے آج کے انسان کو نگل لیا ہے۔ پیدل، سائیکل پر سوار ہونے کی کوشش میں ہے ، سائیکل سوار سکوٹر لینے کے جتن کر رہا ہے ، سکوٹر والا کار کے خواب دیکھتا ہے اور کار والا ہوائی قلعوں کی تعمیر میں لگا رہتا ہے۔ جب سے خلیج کی ریاستوں سے دولت کے انبار آئے ہیں، دوبئی چلو کا نعرہ ہر کسی کی زبان پر ہے۔ لکھ پتیوں کی تعداد لاکھوں ہوئی ہے تو دوسرے لا کھوں بھی لکھ پتی بننے کے شوق میں ان ریاستوں کی طر ف بھاگنے لگے ہیں ۔ کوئی گھر کا اثاثہ بیچ رہا ہے، کو ئی بہو بیٹیوں کے زیورات کے سہارے دوبئی کا ویزا حاصل کرنے کے چکر میں ہے اور کوئی باپ دادا کی جائیداد کو داؤ پر لگا رہا ہے ۔ جو لوگ ویزا حاصل کرنے میں ناکام ہو جاتے ہیں وہ نا جائز طریقے سے ملک سے بھاگنے کی کو شش میں لگ جا تے ہیں۔ اس طر ح انسانی اسمگلنگ کا کاروبار بھی شروع ہو گیا۔ صدیوں پرانی غلامی کے آثار دوبارہ نمایاں ہو گئے۔ انسان انسان کا مالک اور آدمی آدمی کا غلام ہونے لگا۔ مزدوری کے نام پر بیگار کیمپ کھل گئے ہیں۔ انسانیت کا کاروبار زوروں پر شروع ہو گیا ...

کس کی رضا سے اگتے ہیں لیل و نہار دیکھ - حمدِ باری تعالیٰ

Image
کس کی رضا سے اگتے ہیں لیل و نہار دیکھ ہیں دسترس میں کس کی خزاں و بہار دیکھ کر حمد اس کی ، چہرے پہ آتا نکھار دیکھ ”صورت میں اپنی قدرتِ پروردِگار دیکھ” جس نے کیا دکھوں سے تجھے آشکار دیکھ آ رحمتوں کا اس کی ذرا کر ، شمار دیکھ ظلمت کدوں میں بخش کے نورِ ھدیٰ تجھے دیتا ہے تجھ کو کس طرح عز و وقار دیکھ سب سلسلے اسی کے ، وہ ہر مسلے کا حل ناداں تو اس پہ کرکے کبھی اعتبار دیکھ عدس و بصل ، ثمور و عسل جس کی ہیں عطا روزی کشا ہے سب کا وہی کِردگار دیکھ دنیا کے بھید بھاؤ پسِ پشت ڈال کر اس کے لئے بھی ہوکے کبھی دِلفگار دیکھ اک بار دل سے کرلے اسے یاد بے وفا پھر اس کی چاہتوں کا تو چڑھتا خمار دیکھ گلہائے رنگارنگ میں قدرت اسی کی ہے ہیں ترجماں اسی کے سبھی ، خس و خار دیکھ جس نے کیا ہے ناز تجھے آج سرفراز رکھے گا وہ ہمیشہ تجھے ذی وقار دیکھ شوکت علی ناز

جب فرعون نے تخت پر بیٹھتے ہی سجدہ کا حکم دیا تو.......

Image
حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی متوفی 1391 ھ لکتے ہیں:اس نے تخت پر بیٹھتے ہی اعلان عام کیا کہ لوگ مجھے سجدہ کیا کریں۔ سب سے پہلے وزیر ہامان کا فرعون کو سجدہ کرنا پھر امیروں اور سرداروں کے ذریعے لوگوں سے سجدہ کروانا: جب فرعون نے تخت پر بیٹھتے ہی سجدہ کا حکم دیا تو سب سے پہلے اس کے وزیر ہامان نے اس کو سجدہ کیا۔حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی متوفی 1391 ھ لکتے ہیں:سب سے پہلے اس کے وزیر ہامان نے اس کو سجدہ کیا اور پھر دوسرے امیروں اور سرداروں کے ذریعے مصر کے لوگوں سے خود کو اپنے سجدہ کراتا تھا۔ :فرعون کا دور والوں کے لئے اپنے نام کے بت بنوا کر سجدہ کروانا   جو فرعون کے قرب وجوار میں رہتے تھے وہ فرعون کو سجدہ کرتے تھے مگر جو دور رہتے تھے ان کے لئے اس لعین نے اپنے نام کے بت بنوائے جن کے آگے لوگ سجدہ کرتے تھے۔ حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی متوفی 1391 ھ لکتے ہیں: اور دور والوں کے لئے اس نے اپنے نام کے بت بناکر بھیج دئیے تھے کہ وہ ان بتوں کو سجدہ کیا کریں۔ تمام اہل مصر کو فرعون کی پرستش میں گرفتار ہونا مگر بنی اسرائیل کا انکار کردینا: تمام اہل مصر فرعون کی پرستش میں گرفتار ...

عروج اللہ تعالیٰ کس کو دیتا ہے؟

Image
روز اول سے داستان عروج و زوال فرد، خاندان، قبیلے اور قوم سے منسلک رہی ہے۔ خواہ وہ قوم نوح علیہ السلام ہو، قوم عاد وثمود ہو، اصحاب مدین ہو، قوم لوط ہو، قوم بنی اسرائیل ہو یا امت مسلمہ۔ پہلے ہر امت کیلئے ایک ہادی و رہنما ہدایت (کتاب و صحائف) دے کر بھیجا گیا۔ پھر اس امت کو ایک مقررہ وقت تک مہلت دی گئی اور اختیار دیا گیا کہ وہ امت ہدایت کا راستہ اختیار کرنے یا گمراہی کا۔ پھر جیسے ہی وہ امت سیدھے راستے کو اپناتی ویسے ہی اسے عروج و کامیابی نصیب ہوتی اور اگر گمراہی و نافرمانی کا راستہ اختیار کرتی تو ایک مہلت یا مقررہ مدت دیدی جاتی تاکہ وہ توبہ کر کے کسی بھی وقت اپنے اوپر نازل ہونیوالے زوال و عذاب کو ٹال لیں جیسے قوم یونس علیہ السلام کیساتھ ہوا۔ ورنہ ایسی امتوں و بستیوں کو تباہ و برباد کر کے انکا نام و نشان تک ہی مٹا دیا جاتا جیسے قوم نوح علیہ السلام پر انکی نافرمانی کے سبب طوفان نوح آیا اور سب کچھ بہا کر لے گیا۔ قوم عاد و ثمود کو تیز چنگھاڑ اور سات دن اور رات کی منحوس آندھی نے بتاہ و برباد کر کے دکھدیا۔ اصحاب مدین کو زلزلے سے نیست و نابود کر دیا گیا۔ قوم لوط علیہ السلام کو اوندھے منہ ...

حجاب کی فرضیت و اہمیت اور اسکے فوائد و ثمرات

Image
حجاب عربی اور پردہ فارسی زبان کا لفظ ہے لیکن دونوں الفاظ تقریباً ہم معنی ہیں۔ یعنی اوٹ، پردہ اور سترکا چھپانا ان الفاظ کے بے شمار مفہوم ہیں اپنے آپ کو پوشیدہ رکھنا سترچھپانا، پردہ اور حجاب کہلاتا ہے یہودو نصاریٰ، یونانی، ایرانی اور ہندی معاشرے کے افراد اپنی اپنی تہذیبوں کے علم بردار تھے۔ لیکن بعدازاں جیسے جیسے اسلام کی تعلیمات کی مقبولیت میں اضافہ ہوا اللہ تعالیٰ نے اپنے تمام تر احکامات اپنے نبیۖکے ذریعے نافذ کرنا شروع کر دیے جن میں سے ایک پردہ ، زمانہ جاہلیت میں بے شک پردے کے احکامات پر واضح طور پر عمل نہیں کیا جاتا تھا لیکن پردے کا تصور اس وقت بھی موجود تھا۔ حضورپاکۖ پر نازل کی گئی تمام تعلیمات جب تکمیل کے مراحل میں داخل ہوگئیں تب اللہ تعالیٰ نے مکمل طور پر پردے کے احکام نازل فرمائے۔ قرآن پاک میں ارشاد ہے ”اے نبیۖ اپنی بیویوں اور اہل ایمان کی عورتوں سے کہہ دو اپنے اوپر اپنی چادروں کے پلو لٹکا لیا کریں یہ زیادہ مناسب طریقہ ہے تاکہ وہ پہچان لی جائیں اور نہ ستائی جائیں اور اللہ تعالیٰ بخشنے والا اور مہربان ہے ”۔اسلام نے عورت کو سب سے پہلے عزت بخشی ،معاشرے میں اسے فخروانبساط کا باعث...

خدا کی مہربانیاں

Image
میرے سامنے ایک ارب پتی انسان پیکر التجا بنا گریہ زاری کر رہا تھا ۔ اُس کی ساری دولت اُس کے لیے بے معنی اور معذور بن چکی تھی ۔ ایک صحت مند آدمی کے منہ میں قدرتی طور پر روزانہ 600 ملی میٹر تک تھوک بنتا ہے جو کہ 12 اونس بوتل کو بھرنے کے لیے کافی ہوتا ہے لیکن یہ امیر آدمی قدرت کی اس عظیم نعمت سے محروم ہو چکا تھا یہ بار بار اپنے منہ میں قطرہ قطرہ پانی ڈال رہا تھا مجھے بھی اُس کی حالت پر ترس آرہا تھا ۔ پھر میں نے اُسے ذکر اذکار بتائے اور کہا کسی رات خدائے بے نیاز کے سامنے چند آنسو ندامت کے بہا دو یقینا وہ ستر مائوں سے زیادہ شفیق اور مہربان ہے ضرور تمہاری حالت پر رحم کھائے گا اور تمہاری بیماری بھی شفا میں بدل جائے گی پھر وہ امیر آدمی چلا گیا لیکن میرے لیے سوچ کی بہت ساری لکیریں بھی چھوڑ گیا کہ سوہنے رب نے انسانوں کو کتنی نعمتوں سے نواز رکھا ہے لیکن ناشکرا انسان اُن نعمتوں کی قدر ہی نہیں کرتا انسانی جسم قدرت کا شاہکار ہے ایک انسانی جسم میں قدرت نے چھوٹی بڑی آنتوں ، رگوں اور نسوں کا جال بچھا یا ہوا ہے۔ اِس جال کی لمبائی ایک لاکھ کلو میٹر پر محیط ہے اِن کو اگر آپ ڈوری کی شکل دے دیں تو دو با...

عاشقِ رسول ۖ کا ایک قدم

Image
سرور کائنات ۖ کے نور کی تخلیق سے قبل نور عشق ِ الہی اپنے ہی گرد طواف میں مگن رہتا تھا کیونکہ اِس نور کے اندر اُس محبوب ۖ کا نور جھلکتا تھا یہ سلسلہ صدیوں تک اسی طرح جاری و ساری رہا اُس وقت کائنات کے ایک سرے سے دوسرے تک عمیق اور بعید حدوں تک صرف خدائے واحد کی واحدانیت کے نغمے چہار سو بکھرے ہوئے تھے اور پھر خدائے بزرگ برتر نے اپنے ہی نور سے اپنے محبوب کے نور کو وجود بخشا حضرت ولی اللہ محدث دہلوی فرماتے ہیں جب ودود نے اپنے محبوب ۖ کا نور پیدا فرمایا تو کہا ۔”یعنی اے میرے حسنِ ازلی کے مظہر اور میری قدرت کے شاہکار محبوب ۖ آپ میرے عشق ہیں اور میں آپ ۖ کا عشق ہوں ۔ ”پھر آنے والی کئی صدیوں تک اپنے محبوب ۖ کے نورانی جلوئوں میں ڈوبا رہا۔ اور پھر نور عشقِ الہی نے اپنے محبوب ۖ کے نور حسن سے قرار پکڑا تو اٹھارا ہزار عالمین کی مخلوقات اور کائنات کے ذرے ذرے پر الم نشرح ہوگیا کہ کائنات کی تخلیق کی وجہ محبوب خدا ۖ کی ذاتِ اقدس ہے اگر مالک ِ بے نیاز اول آخر کے روبرو محبوب ِ خدا کی ذات نہ ہوتی تو کبھی بھی افلاک اور کائنات کی تخلیق نہ کر تا ۔ چونکہ محبوب ذات نہ ہوتی تو کبھی بھی افلاک اور کا ئنات کی تخل...

ادائیگی زکوٰة کا حکم

Image
زکوٰة کے اصل معنی پاکیزگی کے ہیں ،زکوٰة کی ادائیگی مال کو پاک کرتی ہے۔ توحید ورسالت کے اقرار اور اقامت صلوٰة کے بعد زکوٰة اسلام کا تیسرا رکن ہے، قرآن مجید فرقان حمید میں ستر سے زیادہ مقامات پر اقامت صلوٰة اور ادائے زکوٰة کا ذکر اس طرح ساتھ ساتھ کیاگیا ہے کہ دین میں ان دونوں کا مقام اور درجہ قریب ایک ہی ہے، اسی لیے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دنیا سے پردہ فرماجانے کے بعد بعض علاقوں کے ایسے لوگوں نے جو بظاہر اسلام قبول کرچکے تھے اور توحید ورسالت کا اقرار کرتے اور نمازیں پڑھتے تھے، ادائیگی زکوٰةسے انکار کیا، تو حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے ان کے خلاف جہاد کا اسی بنیاد پر فیصلہ کیا تھا کہ یہ نماز اور زکوٰ ة کے حکم میں تفریق کرتے ہیں جو اللہ اوررسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے دین سے انحراف اور اتداد ہے، صحیح بخاری اور مسلم کی مشہور روایت ہے کہ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے حضرت عمررضی اللہ تعالیٰ عنہ کو جواب دیتے ہوئے فرمایا تھا ” خدا کی قسم نماز اور زکوٰة کے درمیان جو لوگ تفریق کریں گے میں ضرور ان کے خلاف جہاد کروں گا” پھر تمام صحابہ کرام نے ان کے اس نقطہ نظر کو قبول فرمایا ا...

قرآنی آیات میں اسلامی اقدار کے رواج اور پھیلاوَ کے بارے میں اشارے

Image
تم میں سے جو لوگ ایمان لائے ہیں اور نیک اعمال کیے ہیں اللہ تعالیٰ وعدہ فرما چکا ہے کہ انہیں ضرور زمین میں خلیفہ بنائے گا جیسے کہ ان لوگوں کو خلیفہ بنایا تھا جو ان سے پہلے تھے اور یقینا ان کے لیے ان کے اس دین کو مضبوطی کے ساتھ محکم کرکے جما دے گا جسے ان کے لیے وہ پسند فرما چکا ہے اور ان کے اس خوف و خطر کو وہ امن و امان سے بدل دے گا، وہ میری عبادت کرینگے اور کسی کی بھی شریک نہ ٹھیرائیں گے۔ اسکے بعد بھی جو لوگ نا شکری اور کفر کریں وہ لوگ یقینا فاسق ہیں- سورۃ النور ۵۵وہی ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور سچا دین کے کر بھیجا تاکہ اسے اور تمام مذاہب پر غالب کردے اگرچہ مشرکیں نا خوش ہوں- سورۃ الصّف ۹ اسی نے اپنے رسول کو ہدایت اور سچے دین کے ساتھ بھیجا ہے تاکہ اسے اور تمام مذہبوں پر غالب کردے اگرچہ مشرک برا مانیں سورۃ توبۃ ۳۳جب اللہ کی مدد اور فتح آ جائے- اور تو لوگوں کو اللہ کے دین میں جوق در جوق آ تا دیکھ لے- تو اپنے رب کی تسبیح کرنے لگ حمد کے ساتھ اور اس سے مغفرت کی دعا مانگ، بیشک وہ بڑا ہی توبہ قبول کرنے والا ہے سورۃ النصر ۱-۳اور تمھیں ایک دوسری نعمت بھی دے گا جسے تم چاہتے ہو وہ ...

خواب کی حقیقت

Image
حقیقت میں ہم خواب میں کسی سے بات نہیں کرتے ہیں۔ہم کسی کو دیکھتے نہیں ہیں ہماری آنکھیں بند ہوتی ہیں۔نہ ہم بھاگتے ہیں اور نہ چلتے ہیں۔ کوئی بھوت ہمیں ڈراتا نہیں ہے اور نہ ہمارا پیچھا کرتا ہے اور نہ ہی ہمارے سامنے کوئی ہرا بھرا باغ ہوتا ہے۔نہ ہی بلند و بالا عمارتیں ہوتی ہیں کہ جہاں سے ہمیں نیچے دیکھنے سے ڈر لگے اور نہ ہی لوگوں کا ہجوم ہوتا ہے۔ ان ساری تصاویر کے ہوتے ہوئے ہم اصل میں اکیلے اپنے بستر میں ہوتے ہیں۔ لوگوں کے ہجوم کا شوروغل جو کہ ہم اپنے اطرف میں محسوس کرتے ہیں حقیقت میں کبھی بھی ہمارے خاموش کمرے تک نہیں پہنچتا۔ جب ہم محسوس کر رہے ہوتے ہیں ہم بھاگ رہے ہیں حقیقت میں ہم بلکل اپنی جگہ سے نہیں ہلتے۔جب ہم اپنے آپ کو کسی کے ساتھ گرماگرم بحث میں دیکھتے ہیں اصل میں ہم اپنا منہ تک نہیں کھولتے۔ تاہم خواب میں ہم یہ ساری چیزیں واضح انداز میں تجربہ کرتے ہیں۔ ہمارے درمیان لوگ، ہمارے اطراف میں پائی جانے والی چیزیں اتنی حقیقی نظر آتی ہیں کہ ہم یہ تصّور نہیں کرسکتے کہ یہ سب خواب کی حصّہ ہیں۔ہم یہ بھی دیکھ سکتے ہیں کہ ایک کار ہم سے ٹکرائی اور اسکے نتیجے میں پیدا ہونے والی تکلیف ک...

حضرت علی علیہ السلام کاعہد حکومت

Image
حضرت علی علیہ السلام کی ولادت 13رجب 30عام الفیل مطابق 600عیسوی بروز جمعہ بمقام اندرون خانہ کعبہ ہوئی۔ آپ کے دادا عبدالملطب اور والدہ ماجدہ فاطمہ بنت اسد تھیں۔ آپ دونوں طرف سے ہاشمی ہیں۔ مورخین عالم نے آپ کے خانہ کعبہ میں پیدا ہونے کے بارے میں کبھی کسی طرح کا اختلاف نہیں کیا بلکہ بالاتفاق کہتے ہیں کہ لم یولد قبلہ ولد مولود فی بیت الحرام ۔ (مستدرک حاکم جلد سوم صفحہ 483) آپ کی کنیت والقاب بے شمار ہیں۔ کنیت ابوالحسن، ابوتر اب اور القاب امیر المومنین، المرتضیٰ، اسد اللہ، ید اللہ، حیدر کرار، نقش رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور ساقئی کوثر مشہور ہیں۔ مولانا ابو الحسن ندوی رحمۃ اللہ علیہ حضرت علی علیہ السلام کی خلافت کے بارے میں رقم طراز ہیں: خلافت کی پوری مدت کو ایک مسلسل مجاہدہ، ایک کشمکش، ایک مسلسل سفر میں گزارنا، لیکن نہ تھکنا، نہ مایوس ہونا، نہ بددل ہونا، نہ شکایت کرنا، نہ راحت کی طلب، نہ محنت کا شکوہ، نہ دوستوں کا گلہ نہ دشمن کی بدگوئی، مدح سے بے پرواہ، جان سے بے پرواہ، انجام سے بے پرواہ، ماضی کا غم نہ مستقبل کا اندیشہ، فرض کا ایک احساس مسلسل سعی کا ایک سلسلہ غیر منقطع، دری...