کرسمس ٹری… تاریخ کے آئینہ میں
مہمان سامنے پڑی رنگین چھڑیاں بڑی دل چسپی سے دیکھ رہا تھا۔ اسے سمجھ نہیں آ رہا تھا، انہیں دستر خوان پرکیوں سجایا گیا ہے؟ جب کھانا کھا لیا گیا ، برتن سمیٹ لیے گئے اور تھوڑی دیر بعدیہ چھڑیاں بھی اٹھائی جانے لگیں تو اس نے پوچھ ہی لیا : ’’ان چھڑیوں کا کیا مصرف ہے؟‘‘ میزبان نے مسکراتے ہوئے جواب دیا ’’یہ چھڑیاں ہماری ثقافت اور روایات کا حصہ ہیں۔ جب بھی کوئی معزز مہمان آتا ہے تو ہم اس کے اعزاز میں کھانے کے ساتھ یہ چھڑیاں بھی رکھتے ہیں۔‘‘ ’’لیکن انہیں دسترخوان پر رکھنے کی کوئی لاجک تو ہوگی؟‘‘ مہمان نے پوچھا ۔ ’’ہاں اس کا کوئی نہ کوئی مقصد ہوگا لیکن ہمیں معلوم نہیں ہے۔‘‘ میزبان نے جواب دیا۔ مہمان تجسس میں پڑ گیا۔ تھوڑی دیر بعد ایک ضعیف العمر شخص مجلس میں آیا تو مہمان نے اس کے سامنے بھی یہی سوال رکھا۔ ضعیف شخص بھی سوال سن کر مسکرانے لگا۔ پھر بتایا کہ ’’یہ چھڑیاں ایک سادہ سے عمل کی جدید ترین صورت ہیں۔ دراصل ہمارے اکابرین کی خدمت میں جب کوئی مہمان آتا تو اس کے سامنے سرکنڈا رکھا جاتا تھا۔ تاکہ جب وہ کھانا کھا کر فارغ ہو تو اس سرکنڈے سے اپنی مرضی کا تنکا توڑ کر دانتوں کا خلال کر سکے۔ رفتہ رفت...